Super Admin
|Nov 15th 2025
|0 Comments
کنویں کے سائے
شمالی پاکستان کی دھند بھری وادیوں میں چھپے دور دراز گاؤں داروش میں ایک قدیم کنواں تھا۔ نہ کوئی جانتا تھا کہ اسے کس نے بنایا تھا، نہ یہ کہ وہ کب سے وہاں موجود تھا۔ بزرگوں کا کہنا تھا کہ یہ اُن کے داداؤں کے زمانے سے بھی پہلے کا ہے۔ کنویں پر بھاری لکڑی کا ڈھکن رکھا تھا، اس کے اردگرد آئیوی اور کائی جمی ہوئی تھی۔ گاؤں کے باسیوں کو ہمیشہ تنبیہ کی جاتی تھی کہ سورج غروب ہونے کے بعد اسے کبھی نہ کھولا جائے۔
لیکن پابندیاں ہمیشہ تجسس کو جنم دیتی ہیں۔
سترہ سالہ امان دوسرے گاؤں والوں جیسا نہیں تھا۔ وہ جنّات اور پرانی کہانیوں پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ بزرگ جب بدروحوں اور منحوس کنوؤں کی بات کرتے تو وہ ہنستا تھا۔ اس کے لیے یہ سب بچوں کو ڈرانے کے بہانے تھے۔ وہ بےچین طبیعت کا لڑکا تھا، اور ایک ایسے گاؤں میں رہتا تھا جہاں زندگی برسوں سے ایک جیسی تھی۔
ایک سرد شام کو اس کے دوستوں نے اسے کنویں کا ڈھکن اٹھانے کی ہمت دلائی۔
\صرف ایک نظر ڈال لو,\ فیصل نے مسکراتے ہوئے کہا۔ \اگر اتنا بہادر ہے تو ثابت کر۔\
چیلنج نے امان کے اندر ضد کو بھڑکا دیا۔ چاندنی کی مدھم روشنی میں، سرد ہوا کی سرگوشیوں کے ساتھ، وہ کنویں کے قریب پہنچا۔ لکڑی کا ڈھکن توقع سے زیادہ بھاری تھا مگر اس نے دھکا دے کر اسے سرکا ہی لیا۔ کنویں سے ٹھنڈی، باسی بو اُٹھی۔ اس نے ٹارچ اندر ڈالی مگر روشنی اندھیرے میں گم ہوگئی۔
اور پھر… اسے سنائی دیا۔
ایک مدھم سرگوشی۔ یہ ہوا نہیں تھی۔ یہ بہت واضح—بہت انسانی—تھی۔
\بچاؤ مجھے۔\
امان ٹھٹھک گیا۔ وہ سمجھا شاید دوست مذاق کر رہے ہیں۔ \کون ہے؟\ اس نے پکارا۔
لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ صرف ایک ہلکی، بھیگی ہوئی بازگشت۔
جب وہ قریب جھکا تو اسے اپنے چہرے پر کوئی سانس سا محسوس ہوا۔ وہ تیزی سے پیچھے ہٹ گیا، دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اچانک اسے لگا جیسے اندھیرے میں بےشمار آنکھیں اسے دیکھ رہی ہوں۔ گھبرا کر اس نے ڈھکن زور سے بند کیا اور پیچھے مڑے بغیر گھر کی طرف بھاگ گیا۔
اس رات نیند اس سے کوسوں دور رہی۔ جیسے ہی وہ آنکھیں بند کرتا، سرگوشی پھر سنائی دیتی:
بچاؤ مجھے۔
اگلی صبح امان کا چہرہ زرد تھا۔ ماں نے پوچھا کہ طبیعت ٹھیک ہے یا نہیں، لیکن وہ خاموش رہا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ کل کی سب باتیں صرف خیال تھیں۔ مگر جب اس نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا تو ان پر ہلکی سی سیاہی لگی تھی—جیسے گیلی राख۔
اگلے چند دنوں میں داروش میں عجیب واقعات ہونے لگے۔ کنویں کے پاس مردہ جانور ملنے لگے—آنکھوں کے بغیر۔ فضا میں بدبو پھیل گئی۔ رات کو لوگ دھند میں ایک مدھم رونے کی آواز سنتے۔
اور پھر، فیصل غائب ہو گیا۔
اس کی ماں کو اس کا فون کنویں کے پاس ملا، مگر وہ خود کہیں نہیں تھا۔ پولیس نے تلاش کی لیکن کچھ نہ ملا، وہ کہنے لگے شاید وہ بھاگ گیا ہے۔ مگر گاؤں والے سرگوشی کر رہے تھے کہ کنواں اُسے نگل گیا ہے۔
امان پر گناہ کا بوجھ بڑھنے لگا۔ اسے یقین ہو گیا کہ اگر وہ کنواں نہ کھولتا تو فیصل زندہ ہوتا۔ ایک شام وہ تنہا کنویں کے پاس واپس آ گیا۔
\فیصل!\ وہ چیخا۔ \اگر تم نیچے ہو تو جواب دو!\
لمحوں تک خاموشی رہی۔
پھر—مدھم سی سرگوشی:
بچاؤ مجھے۔
اس بار آواز فیصل کی تھی۔
لرزتے ہاتھوں سے امان نے رسی باندھی اور خود کو کنویں میں اتارنے لگا۔ دیواریں چکنی تھیں، ٹھنڈ بڑھتی جا رہی تھی۔ اوپر کی روشنی کم ہوتی گئی، یہاں تک کہ مکمل غائب ہو گئی۔ ٹارچ جھلملائی، اور دیواروں پر عجیب نشانات نظر آئے—آنکھوں، منہ اور مڑے ہوئے چہروں جیسے۔
سرگوشیاں اب زیادہ ہو چکی تھیں۔ کئی آوازیں—رونے والی، ہنسنے والی، مدد مانگنے والی—سب ایک تاریک شور میں بدل گئیں۔
آخر اس کے پاؤں نیچے لگے۔ ٹارچ کی روشنی میں سامنے تنگ سرنگ تھی اور فرش پر انسانوں کی ہڈیاں—کھوپڑیاں، پسلیاں، پھٹے ہوئے کپڑے۔
پھر اندھیروں میں کوئی ہلا۔
وہ فیصل تھا۔
یا جو کچھ فیصل سے باقی رہ گیا تھا۔ اس کی جلد سفید، آنکھیں خالی، اور ہونٹ ایک غیر فطری مسکراہٹ میں پھیلے ہوئے تھے۔
\تم میرے لیے آئے ہو,\ اس نے سرگوشی کی۔
امان پیچھے ہٹ گیا۔ \تمہارے ساتھ کیا ہوا؟\
\انہوں نے جانے نہیں دیا,\ فیصل نے کمزور آواز میں کہا۔ \وہ بھوکے ہیں، امان… بہت بھوکے…\
اس سے پہلے کہ امان کچھ سمجھتا، ایک سرد، گیلا ہاتھ اس کے ٹخنے سے لپٹ گیا۔ اس نے نیچے دیکھا—زمین سے ایک تاریک ہاتھ اُبھر رہا تھا۔ پھر دوسرا۔ پھر تیسرا۔ بے شمار ہاتھ—کالے، چپچپے—زمین سے نکل کر اسے پکڑ رہے تھے۔
امان نے چیخ کر رسی پکڑی، مگر وہ فوراً ٹوٹ گئی۔ آخری منظر جو اس نے دیکھا وہ فیصل کی بےجان آنکھیں تھیں—پھر اندھیرا سب کچھ نگل گیا۔
کئی دن بعد کنواں پھر کھلا ملا۔ مگر کوئی اس کے قریب جانے کی ہمت نہ کر سکا۔ رات کے وقت لوگ کہتے تھے کہ انہیں دو آوازیں آتی ہیں—ایک مدد مانگتی ہوئی، دوسری آہستہ سے ہنستی ہوئی۔
بزرگوں نے کنویں کو لوہے سے بند کر دیا اور اسے منحوس قرار دیا۔
مگر سرگوشیاں… وہ کبھی نہ رکیں۔ کبھی کبھی، جب ہوا بالکل تھم جاتی ہے، تو وہ گاؤں میں پھیل جاتی ہیں—مدد کی پکار، بے انت… بے صبر۔
اور جب بچے پوچھتے ہیں کہ انہیں پرانے کنویں کے قریب کیوں نہیں جانا چاہیے، تو بزرگ بس اتنا کہتے ہیں:
\کیونکہ اس کے نیچے کے سائے ہمیشہ کسی نئے کا انتظار کرتے ہیں۔\
Comments (0)